پہلا صفحہ /  زیارت

[ آداب زیارت ]

 

آداب زیارت


زیارت کے آداب سے آشنا وآگاہ ہونا ایک مسلمان زائر کے لئے بہت ضروری ہے۔تاکہ ان آداب کی رائت کرتے ہوئے اولیاءدین سے یہ زائر آشنا زیادہ سے زیادہ استفادہ کرسکے اس بات کو مد نظررکھتے ہوئے ہم چنندہ آداب زیارت آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں ۔
۱۔ سفر سے پہلے غسل کریں
۲۔ پاکیزہ روح ار توبہ کی آمادگی کے ساتھ زیارت کے لئے تشریف لے جائیں تا کہ آپ کی زیارت مقبول بارگاہ الٰہی قرار پائے ۔
۳۔باوضو ہوکر پاکیزہ لباس زیب تن کریں خوشبو کا استعمال کریں پھر حرم مطہر سے مشرف ہوں ۔
۴۔انتہائی خضوع وخشوع کے ساتھ منزل سے نکلیں حالت یہ ہوکہ لبوں پر ذکر خدا ہو اور چھوٹے چھوٹے قدم سے راہ طے فرمائیں۔
۵۔جس وقت حرم مطہر میں داخل ہوں پہلے دائیں پیر کو داخل کریں اور نکلتے وقت پہلے بایاں پیر نکالیں ۔اور اذن دخول ثواب نیت سے پڑھیں۔

۶۔ جس وقت ضریح منور اور قبر مطہر پر نظر پڑے ذکر خدا فرمائیں اور محمد وآل محمد پر صلوات بھیجیں۔
۷۔ زیارت کرتے وقت حضرت کے سر اقدس کے نزدیک رو بہ قبلہ کھڑے ہوں اور ۳۴ مرتبہ (اللہ اکبر)۳۳مرتبہ (سبحان اللہ)۳۳مرتبہ(الحمد اللہ )کی تلاوت فرمائیں اس کے بعد وہ معروف زیارت جو امام رضا (ع) سے نقل ہوئی ہے اس کی تلاوت فرمائیں۔
۸۔ رخسارہ کے دائیں اور بائیں حصے کو ضریح مطہر پر رکھیں اور نہایت عجزوانکساری کے ساتھ اپنی شرعی حاجتوں کو طلب فرمائیں۔
۹۔ دو رکعت نماز پڑھیںجس کا ثواب حضرت کی جانب ہدیہ فرمائیں۔
۱۰۔ نماز جمات کو زیارت پر مقدم فرمائیں(جب نماز کا اول وقت ہو)
۱۱۔ اس مقدس مکان اور پر نور فضا سے بھر پور استفادہ فرمائیں ،حرم مطہر میں قیمتی اوقات استغفار اور طلب مغفرت اور اپنے لئے اور اپنے دینی بھائیوں کے دعا خیر کریں۔قرآن کریم اور وہ دعائیں جو ائمہ اہلبیت (ع) سے وارد ہوئی ہیں ان کی تلاوت فرمائیں خاص کر زیارت جامعہ اور زیارت امین اللہ پڑھیں دعای مکرم الاخلاق اور خمسہ عشر (امام سجاد علیہ السلام )مناجات کی ضرور تلاوت فرمائیں۔

دو اہم چیزوں کی یاد دہانی

۱۔ جس وقت آپ ائمہ یا اولاد ائمہ کے حرم مطہر سے مشرف ہورہے ہوں اس وقت کسی اس کام کو انجام دینے سے پرہیز کریں جس سے دشمنان دین سوءاستفادہ کرسکتے ہوں۔مثلاً ضریح مطہر یا قبر منور کے دیدار کے وقت سجدہ کرنا۔کیونکہ اس طرح کے افعال سے نہ ہی خدا راضی ہوتاہے اور نہ ہی یہ عظیم ہستیاں ہمارے اس فعل کو پسند فرماتی ہیں جن کی بارگاہ مقدسہ میں ہم نے خاطری دی ہے ۔بلکہ ہمارے اس فعل سے دشمنوں کو مکتب اہلبیت (ع) پر تہمت لگانے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔
۲۔ مسلمان خواتین سے گزارش ہے کہ جس وقت اولیائے دین کے محضر میں حاضر ہوں حجاب کامل کی رعایت فرمائیں اور ایسے لباس زیب تن کرنے سے پرہیز فرمائیں جس سے بدن کی نمائش ہوتی ہو۔شئون اسلامی کی مخالفت نہ فرمائیں حریم مقدس الٰہی کی حرمت کا لحاظ رکھیں۔اگر آپ نے ان تمام گزارشات کی رعایت نہ کی تو آپ کی یہ زیارت سیر وتفریح سے زیادہ قدر وقیمت نہیں رکھتی ۔اور نہ یہ کہ آپ صرف ثواب سے محروم رہیں گے بلکہ درد ناک عذاب کی بھی مستحق قرار پائیں گی۔